Saturday, 17 January 2026
Let's read about karma of the world.
19:35
مکافاتِ عمل کے 15 اٹل اصول
دنیا کا سب سے بڑا اور اٹل قانون "مکافاتِ عمل" ہے، جسے انگریزی میں Karma کہا جاتا ہے۔ یہ قدرت کا وہ خودکار نظام ہے جس میں "عدالت" نہیں لگتی، بلکہ فیصلے خود بخود نافذ ہوتے ہیں۔ آپ جو بیج بوتے ہیں، فصل وہی کاٹنی پڑتی ہے، چاہے وہ گندم ہو یا کانٹے۔
1-گھوم کر آنے والا تیر (The Boomerang Effect)
آپ فضا میں جو پتھر پھینکتے ہیں، وہ کششِ ثقل کی وجہ سے زمین پر واپس آتا ہے۔ بالکل اسی طرح، آپ کا کیا ہوا ظلم یا نیکی گھوم کر واپس آپ ہی کی طرف آتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کسی کا راستہ روکیں اور قدرت آپ کا راستہ نہ روکے۔
2-سود سمیت واپسی (Compound Interest)
قدرت صرف حساب برابر نہیں کرتی، بلکہ "سود" سمیت واپس کرتی ہے۔ اگر آپ نے کسی کو ایک تھپڑ مارا ہے، تو حالات آپ کو دس تھپڑ ماریں گے۔ مکافاتِ عمل میں واپسی ہمیشہ اصل سے زیادہ ہوتی ہے، چاہے وہ اچھائی ہو یا برائی۔
3-مظلوم کی خاموشی (The Silence of the Victim)
ظالم کے لیے سب سے خطرناک چیز مظلوم کی "خاموشی" ہے۔ جب مظلوم بدلہ نہیں لیتا اور معاملہ آسمان والے پر چھوڑ دیتا ہے، تو پھر اس کا کیس قدرت لڑتی ہے، اور قدرت کی پکڑ میں کوئی ضمانت (Bail) نہیں ہوتی۔
4-ڈھیل، معافی نہیں (Delay is not Denial)
قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے لیکن بے اثر نہیں۔ کبھی کبھی ظالم کو لمبی رسی دی جاتی ہے، لیکن یہ ڈھیل اس لیے ہوتی ہے تاکہ جب وہ اپنی طاقت کے عروج پر ہو، تب اسے نیچے گرایا جائے تاکہ تکلیف زیادہ ہو۔
5-اولاد کے روپ میں امتحان (Trials through Offspring)
مکافاتِ عمل کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اکثر باپ کا کیا دھرا اولاد کے سامنے آتا ہے۔ جو دُکھ آپ نے کسی کے والدین کو دیے ہوتے ہیں، قدرت وہی دُکھ آپ کی اولاد کے ذریعے آپ کو لوٹاتی ہے۔ یہ "نسلوں کا قرض" ہوتا ہے۔
6-جنس کا بدلہ جنس (Currency of Pain)
قدرت اسی "کرنسی" میں بدلہ دیتی ہے جس میں آپ نے جرم کیا ہوتا ہے۔ اگر آپ نے کسی کی عزت اچھالی، تو آپ کی دولت نہیں جائے گی بلکہ عزت ہی جائے گی۔ اگر آپ نے کسی کا گھر توڑا، تو آپ کا گھر ہی ٹوٹے گا۔ حساب "آئٹم ٹو آئٹم" ہوتا ہے۔
7-سکون کی موت (Death of Inner Peace)
مکافاتِ عمل کا پہلا وار "ذہن" پر ہوتا ہے۔ ظالم کے پاس نرم بستر تو ہوتا ہے لیکن نیند چھین لی جاتی ہے۔ اس کے دل میں ایک انجانا خوف بیٹھ جاتا ہے، اور وہ اپنے ہی سائے سے ڈرنے لگتا ہے۔
8-غیر متوقع وار (Blindside Hit)
ظالم ہمیشہ سامنے سے حملے کے لیے تیار رہتا ہے، لیکن قدرت کا وار وہاں سے ہوتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا۔ کوئی قریبی دوست دھوکا دے جاتا ہے یا کوئی چھوٹی سی بیماری جان لیوا بن جاتی ہے۔
9-بے بسی کا تماشا (Public Humiliation)
مکافاتِ عمل انسان کو تنہائی میں نہیں مارتی، بلکہ چوراہے پر لا کر عبرت کا نشان بناتی ہے۔ جو شخص لوگوں کو ذلیل کرتا تھا، حالات اسے لوگوں کے سامنے محتاج کر دیتے ہیں تاکہ دنیا دیکھے۔
10-وقت کا پہیہ (The Wheel of Time)
وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ اگر آج آپ طاقتور ہیں اور کمزور کو دبا رہے ہیں، تو یاد رکھیں کل وقت بدلے گا اور کمزور طاقتور ہو جائے گا۔ فرعون بھی ڈوب گیا تھا، وقت کسی کا سگا نہیں ہوتا۔
11-اسباب کا کٹ جانا (Cutting off the Means)
جب پکڑ کا وقت آتا ہے، تو ظالم کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ اس کے طاقتور تعلقات، پیسہ اور سفارشیں سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اسے بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔
12-اپنے ہی خلاف گواہی
مکافاتِ عمل میں انسان خود اپنے خلاف گواہ بن جاتا ہے۔ وہ اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔ اس کے اپنے الفاظ اور اپنی چالیں اس کے گلے کا پھندا بن جاتی ہیں۔
13-جسمانی سزائیں (Physical Toll)
نفسیات اور روحانیت کہتی ہے کہ ظلم اور منفی سوچیں انسان کے جسم کو اندر سے کھا جاتی ہیں۔ لاعلاج بیماریاں اکثر مکافاتِ عمل کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں، جن کا میڈیکل سائنس میں کوئی شافی علاج نہیں ملتا۔
14-تنہائی کا عذاب (Loneliness)
جس نے اپنی طاقت کے نشے میں لوگوں کو دور کیا ہوتا ہے، بڑھاپے میں وہ بدترین تنہائی کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے اپنے اسے چھوڑ جاتے ہیں، اور وہ بھری دنیا میں اکیلا رہ جاتا ہے۔
15-ضمیر کا بوجھ (The Guilt)
سب سے بڑی سزا "ضمیر کی خلش" ہے۔ ظالم دنیا کو دھوکا دے سکتا ہے، لیکن آئینے میں خود سے آنکھ نہیں ملا سکتا۔ وہ زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے جو صرف سانس لے رہی ہوتی ہے، جی نہیں رہی ہوتی۔
اس سے پہلے کہ مکافاتِ عمل کا چکر پورا ہو اور تیر واپس آپ کی طرف آئے، معافی مانگ لیں اور تلافی کر لیں۔
قدرت کا اصول سادہ ہے،جو بانٹو گے، وہی (کئی گنا ہو کر) واپس ملے گا۔










